Monday, 7 January 2013

Pin It

Widgets

.......اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں




اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
بوجھ پانی کا اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

پاؤں رکھتے ہیں جو مجھ پر انہیں احساس نہیں
میں نشانات مٹاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

برف ایسی کہ پگھلتی نہیں پانی بن کر
پیاس ایسی کہ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

غمگساری بھی عجب کار محبت ہے کہ میں
... رونےوالوں کو ہنساتے ہوئے تھک جاتا ہوں

اتنی قبریں نہ بناؤ میرے اندر محسن
میں چراغوں کو جلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں..




Please Do Click g+1 Button If You Liked The Post & Share It



Get Free Updates in your Inbox
Follow us on:
facebook twitter gplus pinterest rss

No comments:

Post a Comment

Thanks For Nice Comments.