Monday, 22 December 2014

Khuwab Hai Ya Saraab Hai Koi

Best Khuwab Poetry

خواب ہے یا سراب ہے کوئی
یا سراپا حجاب ہے کوئی

زندگی یوں گزار دی ہم نے
اک مسلسل عذاب ہے کوئی

روز لڑتے ہیں ہم ستاروں سے
کچھ پرانا حساب ہے کوئی

جنوری کی اداس شاموں میں
لطف ہی لاجواب ہے کوئی

اُس کو دِل سے لگائے بیٹھے ہیں
وہ مقدس کتاب ہے کوئی

عشق نہ ہو تو حُسن پھیکا ہے
گویا نقلی گلاب ہے کوئی

نہ یہ بستا ہے نہ اجڑتا ہے
دل ہی خانہ خراب ہے کوئی

ہمسفر اب تو آ کے مل جاؤ
....کتنا پُر اضطراب ہے کوئی

Sunday, 21 December 2014

Charrhti Thi Ik Mazaar Pe Chaadaren Be-Shumaar


Best Short Poetry

چڑھتی تھیں اک مزار پہ چادریں بے شمار
باہر بیٹھا اک فقیر سردی سے مر گیا

Saturday, 20 December 2014

Jo Gir Gaya Nazar Se Woh Bhaya Nahi Kabhi

Best Urdu Ghazals

ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ
ﺟﻮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ

ﺣﺮﺹ ﻭﮨﻮﺱ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺷﻌﺎﺭ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮔﻨﻮﺍﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ

ﮨﻢ ﺁﺷﻨﺎ ﺗﮭﮯ ﻣﻮﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﮨﻢ ﻣﺰﺍﺝ ﺳﮯ
ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻘﺶ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ

ﺍﮎ ﺑﺎﺭﺍﺱ ﮐﯽﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽﺑﮯ ﺭﺧﯽ
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﺎﺩ ﻭﮦ ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ

ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺝ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ

ﺗﺴﻨﯿﻢ ﺟﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﻧﺎﮐﺎﻣﯿﻮﮞ ﭘﮧ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ...

Friday, 19 December 2014

Hum Jo Insano Ki Tehzeeb Liye Phirty Hein

Best Urdu Poetry


ہم جو اِنسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

Thursday, 18 December 2014

Teri Diwaar Se Oonchi Meri Diwaar Banay

Best Urdu Ghazal

دل فروشوں کے لیے کوچہ و بازار بنے
اور جانبازوں کی خاطر رسن و دار بنے

بس یہی دوڑ ہے اس دور کے انسانوں کی
تیری دیوار سے اونچی مری دیوار بنے

چھین کر غیر سے اپنوں نے مجھے قتل کیا
آپ ہی ڈھال بنے ،آپ ہی تلوار بنے

ہوگئے لوگ  اپاہچ  یہی کہتے کہتے
ابھی چلتے ہیں ذرا راہ تو ہموار بنے

مجھ کو ممنون کرم کرکے وہ فرماتے ہیں
آدمی سوچ سمجھ کر ذرا خود دار بنے

خود شناسی کے نہ ہونے سے یہی ہوتا ہے
جن کو فن کار نہ بننا تھا وہ فن کار بنے

تجھ سے کتنا ہے ہمیں پیار کچھ اندازہ کر
ہم ترے چاہنے والوں کے روادار بنے

شان و شوکت کے لیے تو ہے پریشان حفیظ
...اور میری یہ تمنا ترا  کردار  بنے

Wednesday, 17 December 2014

Ishq Ki Kaash Aankh Lag Jaey

Best Ishq Poetry

سب کی نیندیں حرام کرتا هے
عشق کی کاش آنکھ لگ جاۓ

Tuesday, 16 December 2014

Majboor Thay Hum Uss Se Mohabbat Bhi Bohat Thi

Best Love Poetry
  
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی

اس بُت کے ستم سہ کے دکھا ہی دیا ہم نے
گو اپنی طبیعت میں بغاوت بھی بہت تھی

واقف ہی نا تھا رمز محبت سے وہ ورنہ
دل کے لیے تھوڑی سی عنایت بھی بہت تھی

یوں ہی نہیں مشہور زمانہ میرا قاتل
اس شخص کو اس فن میں مہارت بھی بہت تھی

ہر شام سناتے تھے حسینوں کو غزل ہم
جب مال بہت تھا تو سخاوت بھی بہت تھی

Monday, 15 December 2014

Hum Hijraton K Baad Bhi Qaatil K Ghar Mein Thay

Best Short Poetry

سازش تھی رہبروں کی یا قسمت کا پھیر تھا
ہم ہجرتوں کے بعد بھی قاتل کے گھر میں تھے

Sunday, 14 December 2014

Mein Tha Mera Pagal Pan Tha Pehli Pehli Barish Mein

New Barish Poetry

رقص کیا کبھی شور مچایا پہلی پہلی بارش میں
میں تھا میرا پاگل پن تھا پہلی پہلی بارش میں

ایک اکیلا میں ہی گھر میں خوفزدہ سا بیٹھا تھا
، ورنہ شہر تو بھیگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں

آنے والے سبز دنوں کی سب شادابی اس سے ہے
 آنکھوں نے جو منظر دیکھا پہلی پہلی بارش میں

شام پڑے سوجانے والا دیپ بجھا کر یادوں کے
 رات گئے تک جاگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں

جانے کیا کیا خواب بنے تھے پہلے ساون میں
....جانے اس پر کیا کیا لکھا پہلی پہلی بارش میں

Saturday, 13 December 2014

Terey Bagair Kisi Ka Bhi Dil Nahi Lagta

Urdu Sad SMS

تیرے بغیر کسی کا بهی دل نهیں لگتا
میرے مکان کی هر شے اداس هے سائیاں

Friday, 12 December 2014

Hum Apne Piyar Mein Had Se Guzar Jatay Thay Tou Acha Tha

Best  Sad Poetry

تری چوکھٹ پہ سر رکھ کے جو مر جاتے تو اچھا تھا
ہم اپنے پیار میں حد سے گزر جاتے تو اچھا تھا

بچھڑنے سے ذرا پہلے بہک جاتا جنوں میرا
مرے پہلو میں وہ گیسو بکھر جاتے تو اچھا تھا

ہمیں رسموں رواجوں سے نہیں تھا واسطہ رکھنا
ہم اپنے دل کی دنیا میں اُتر جاتے تو اچھا تھا

محبت میں جو گزرے ہیں وہی دو پل ہمارے تھے
وہی دو پل ہمیشہ کو ٹھہر جاتے تو اچھا تھا

پیامِ شوق جو میرا لیئے پھرتے تھے آوارہ
کبوتر وہ تری چھت پر اپتر جاتے تو اچھا تھا

قمر اس بے مہر دنیا میں جینا کیسا جینا ہے
 ...ہم اپنے عشق میں جل کر نکھر جاتے تو اچھا تھا

Thursday, 11 December 2014

Aur Har Pehlu Se Hum Tumhare Hein

Romantic Urdu Poetry

زندگی کے ہزاروں پہلو ہیں
اور ہر پہلو سے ہم تمہارے ہیں

Tuesday, 9 December 2014

Khairaat Maang Lein Gay Khuda-E-Kareem Se

Best Duaa Poetry

واعظ کا طعن سن کے، کہا اک فقیر نے
کچھ کم نہ لیں گے ہم تو بہشت نعیم سے

بخشش نہ مل سکی تو نہ ہاریں گے حوصلہ
خیرات مانگ لیں گے خداۓ کریم سے

Monday, 8 December 2014

Hathon Mein Terey Gaaon Ka Naqsha Bana Hua

Best Love Ghazals

پتّھر پڑے ہوئے کہیں رستہ بنا ہوا
ہاتھوں میں تیرے گاؤں کا نقشہ بنا ہوا

آنکھوں کی آب جُو کے کنارے کسی کا عکس
پانی میں لگ رہا ہے پرندہ بنا ہوا

صحرا کی گرم دھوپ میں باغِ بہشت ہے
 تِنکوں سے تیرے ہاتھ کا پنکھا بنا ہوا

صندل کے عِطر سے تری منہدی گنُدھی ہوئی
 سونے کے تار سے مِرا سہرا بنا ہوا

یادوں سے لے رہا ہوں حِنائی مہَک کا لطف
 ٹیبل پہ رکھ کے لونگ کا قہوہ بنا ہوا

میلے میں ناچتی ہوئی جَٹّی کے رقص پر
... یاروں کے درمیان ہے جھگڑا بنا ہوا

Sunday, 7 December 2014

Tu Khud Ko Musafir Mujhe Diwaar Samajh Lay

Best Sad Poetry

آ تھک کے کبھی پاس میرے بیٹھ تو ہمدم
تُو خود کو مُسافر ، مجھے دیوار سمجھ لے

Saturday, 6 December 2014

Koi Diya He Nahi Tha Kisay Bujhati Hawa

Poetry 2015

بہُت اُداس تھی اِن طاقچوں سے جاتی ہَوا
 کوئی دیا ہی نہیں تھا کسے بُجھاتی ہَوا

مَیں چاہتا ہُوں تِرے بعد کی خموشی رہے
 گزر رہی ہے مگر کِھڑکیاں بَجاتی ہَوا

اِسی خیال سے ہم رات بھر نہیں سوئے
 نہ جانے کون سا اگلا قدم اُٹھاتی ہَوا

کسی پڑاو ٹھہَرنے کا نام لیتی نہیں
ہماری خاک یہاں سے وہاں اُڑاتی ہَوا

تمہارے بعد حویلی کے خالی کمروں میں
 ....بھٹک رہی ہے مِرے ساتھ سَرسراتی ہَوا

Friday, 5 December 2014

Khuda Karey Naya Saal Sabhi Ko Raas Aaey

New Year Poetry

نہ کوئ رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے نیا سال سبهی کو راس آئے

Thursday, 4 December 2014

Naya Saal Terey Daaman Mein

New Year Poems


خُدا کرے کہ
نیا سال تیرے دامن میں
وہ سارے پھول کھلا دے

کہ جن کی خوشبو نے.
ترے خیال میں
...شمعیں جلائی رکھی تھیں

Wednesday, 3 December 2014

December Aansoun Mein Beh Gaya Hai

Best December Poetry

کوئی جذبہ ادھورا رہ گیا ہے
دسمبرآنسوئوں میں بہہ گیا ہے

یہ دل خاموش ہو کر رہ گیا ہے
نا جانے آج وہ کیا کہہ گیا ہے

یہ آنکھیں ہیں ہماری کتنی گہری
سمندر میں سمندر بہہ گیا یے

تمہارے ساتھ وابستہ تھا سب کچھ
سواَےَ یاد کے کیا رہ گیا ہے

پلٹ کر دیکھنے پر ہم نے جانا
دل نادان کیا کیا سہہ گیا ہے

بہت بھیڑ ہے بازاروں میں لیکن

 ......تیرا ارشد اکیلا رہ گیا ہے

Tuesday, 2 December 2014

Raat Chupkey Se December Ne


رات چپکے سے دسمبر نے یہ سرگوشی کی
پھر سے اک بار رلا دوں تجھے جاتے جاتے

Monday, 1 December 2014

Macha Kar Shor Din Bhar Ka Pareshani Batati Hai

Best Urdu Ghazal

مچا کر شور دن بھر کی پریشانی بتاتی ہے
 خموشی سے جو رانی رات کے معنی بتاتی ہے

اسے اندر ہی اندر کوئی دیمک چاٹتی ہے
 پر کہاں یہ روگ اُس کی اوڑھنی دھانی بتاتی ہے

کسی اچّھے گھرانے سے تعلّق ہے ضرور اس کا
اثر نسبت کا جاں پرور غزل خوانی بتاتی ہے

بتاؤ یا چھپاؤ راز جو آنکھوں تک آ پہنچی
یہ لہر احساس کے دریا کی طغیانی بتاتی ہے

اسی خاطر میں تہمت کار دنیا کی نہیں سنتا
قرار ِجاں کو میرا دشمن ِجانی بتاتی ہے

عجب استاد ہے اُفتاد ِطبعی بھی شہاب اپنی
بہت مشکِل کئی نکتے بَہ آسانی بتاتی ہے

Sunday, 30 November 2014

Doodh Wafir Tha Merey Dais K Bachon K Liye

Great Sad Poetry

دودھ وافر تھا میرے دیس کے بچوں کے لیۓ
آستینوں میں اگر سانپ نہ پالے جاتے

Saturday, 29 November 2014

Aab-E-Zam Zam Mein Agar Zehar Mila Sakta Hai


آبِ زم زم میں اگر زہر ملا سکتا ہے
موجِ نفرت میں کہیں تک بھی وہ جا سکتا ہے

کر کے وہ پھول سے بچّوں کو لہو میں لت پت
اُن کے ملبوس کی دستار بنا سکتا ہے

دے نہیں سکتا کسی طفل کو ٹافی لیکن
اُس پہ پستول کی گولی وہ چلا سکتا ہے

بم سکولوں پہ گراتا ہے وہ جن ہاتھوں سے
حیف! قرآں انہی ہاتھوں میں اٹھا سکتا ہے

اُس کے نزدیک مثالی وہی مومن ہے کہ جو
ٹکڑے جسموں کے مساجد میں اڑا سکتا ہے

اُس کی خصلت پہ یہ حیرت سے درندوں نے کہا
وَحش ایسا ' کسی انساں میں بھی آسکتا ہے

اُس کے سینے میں تو احساس کا جگنو بھی نہیں
وہ فقط جلتے چراغوں کو بجھا سکتا ہے

اُس کا یہ وہم ہے' بس وہم سراسر کہ کبھی
 ....پرچمِ عشق ہمارا وہ جھکا سکتا ہے

Friday, 28 November 2014

Bachay School Se Jannat Chaley Gaey


 مائیں دروازہ تکتی رہ گئیں
بچے اسکول سے جنت چلے گئے

Thursday, 27 November 2014

Hum December Ko Kis Liye Rotey

December Urdu Poetry

سرد لہجہ تھا پورے سال تِرا
ھم دسمبر کو کِس لیے روتے

Wednesday, 26 November 2014

Iss Dasht Se Aagay Bhi Koi Dsaht-e-Gumaan Hai

Best Love Poetry
  
اِس دشت سے آگے بھی کوئی دشتِ گماں ہے
لیکن یہ یقیں  کون  دلائے  گا  کہاں  ہے

یہ روح کسی اور علاقے کی مکیں ہے
یہ جسم کسی اور جزیرے کا مکاں ہے

کشتی کے مسافر پہ یونہی طاری نہیں خوف
ٹھہرا ہوا پانی کسی خطرے کا نشاں ہے

جو کچھ بھی یہاں ہےترے ہونے سے ہے ورنہ
منظر میں جو کھلتا ہے، وہ منظر میں کہاں ہے

اِس راکھ سے اٹھتی ہوئی ۔۔خوشبو نے بتایا
مرتے ہوئے لوگوں کی کہاں جائے اماں ہے

کرتاہے وہی کام جو کرنا نہیں ہوتا
جو بات میں کہتاہوں یہ دل سنتا کہاں ہے

یہ کارِ سخن کارِ عبث تو نہیں عامی
 ....یہ قافیہ پیمائی نہیں حسنِ بیاں ہے

Tuesday, 25 November 2014

Aisi Taisi Phullaan Di

Great Love SMS

سُرخی تیرے بُللاں دی 
ایسی تیسی پھلٌّاں دی 

Monday, 24 November 2014

Guzar Raha Hoon Magar Waqt K Iraday Se

Best Sad Poetry

گزر رہا ہوں مگر وقت کے ارادے سے
مرا وجود بندھا ہے ہوا کے دھاگے سے

کسے پکاروں بھلا کون چل کے آئے گا
یہاں پہ لوگ نظر آئے بھی تو آدھے سے

میں اِس جگہ سے کہیں اور جا نہیں سکتا
بندھا ہوا ہوں مکمل کسی کے وعدے سے

یہ چاند ٹوٹ کے قدموں میں کیوں نہیں گرتا
یہ کھینچتا ہے مجھے چاندنی کی دھاگے سے

تغیرات کی دنیا ترا قصور ہی کیا
....ترا وجود جو ممکن ہوا ارادے سے

Sunday, 23 November 2014

Sardiyon Ka Chaand Pagal Hogaya


ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ
ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ

Saturday, 22 November 2014

Mein Ussay Apney Sabhi Aasaar De Kar Aagaya

Great Ghazals Collection

تیر ، نیزے ، ڈھال اور تلوار دے کر آگیا
اپنا سب کچھ ہی سپہ سالار دے کر آگیا

ہارنے کے خوف سے یہ فیصلہ کرنا پڑا
جنگ سے پہلے میں سب ہتھیار دے کر آگیا

عین ممکن ہے وہ میرا نام تک رہنے نہ دے
میں اُسے اپنے سبھی آثار دے کر آگیا

وقت نے دہرا دیا قصہ مرے اسلاف کا
اہل مکہ کو میں پھر گھر بار دے کر آگیا

اپنے حصے کی حکومت بھی اُسی کو سونپ دی
 ...میں ندیمؔ اُس کو بھرا دربار دے کر آگیا

Friday, 21 November 2014

Tum Samjhtey Ho Be-Zubaan Hein Hum

Great Lover Poetry

صبر تہذیب ہے محبت کی
تم سمجهتے ہو بے زبان ہیں ہم

Thursday, 20 November 2014

Kisi Pichhli Mohabbat Ko Dobara Kar Liya Jaey


Best Love Poetry

یونہی اس عشق میں اتنا گوارہ کر لیا جائے
کسی پچھلی محبت کو دوبارہ کر لیا جائے

شجر کی ٹہنیوں کے پاس آنے سے ذرا پہلے
دعا کی چھاؤں میں کچھ پل گزارہ کر لیا جائے

ہمارا مسئلہ ہے مشورے سے اب بہت آگے
کسی دن احتیاطاً استخار ہ کر لیا جائے

مرا مقصد یہاں رکنا نہیں بس اتنا سوچا ہے
سفر سے پیشتر اس کا نظارہ کر لیا جائے

حوالے کر کے اپنا جسم اک دن تیز لہروں کے
پھر اس کے بعد دریا سے کنارہ کر لیا جائے

ندیمؔ اس شہر میں مانوس گلیاں بھی بہت سی ہیں
....اور اب آئے ہیں تو ان کا نظارہ کر لیا جائے

Wednesday, 19 November 2014

Yaad Jab Daaira Banati Hai


ﻣﺠﮭﮑﻮ ﻣﺮﮐﺰ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﯾﺎﺩ ﺟﺐ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ

Tuesday, 18 November 2014

Tumhara Ishq Mera Aakhri Sahara Hai

Ishq Urdu Poetry

کبھی درخت کبھی جھیل کا کنارا ہے
یہ ہجر ہے کہ محبت کا استعارا ہے

تم آئو اور کسی روز اس کو لے جائو
بس ایک سانس ہے اِس پر بھی حق تمہارا ہے

خدائے عشق گلہ تجھ سے ہے جہاں سے نہیں
مرے لہو میں محبت کو کیوں اُتارا ہے

یہ سوچ لینا مجھے چھوڑنے سے پہلے تم
تمہارا عشق مرا آخری سہارا ہے

ابھی تو کھال اُدھڑنی ہے اِس تماشے میں
...ابھی دھمال میں جوگی نے سانس ہارا ہے

Monday, 17 November 2014

Ya Ta'alluq Na Nibh Saka Uss Se

Best Urdu Poetry

یا تعلق نہ نبھ سکا اس سے
یا طبیعت ہی بھر گئی ہو گی

Sunday, 16 November 2014

Tu Mujhse Piyar Kar Zara Tabdeel Kar Mujhe

Great Love Ghazals

ویران بہت ہوں ، وصل سے تشکیل کر مجھے
تو مجھ سے پیار کر ، ذرا تبدیل کر مجھے

صحرا کی تپتی ریت سے آکر مجھے بچا
تو ٹھنڈے میٹھے پانی کی جھیل کر مجھے

ہو جائیں نہ خراب کہیں میری عادتیں
ہر حکم پر نہ اس طرح تعمیل کر مجھے

اب اس طرح سے مجھ کو ادھورا نہ چھوڑ تو
...میں ہوں تیرا وعدہ ، تو اب تکمیل کر مجھے

Saturday, 15 November 2014

Jo Dil Se Hamara Ho Woh Ik Shakhs Kafi Hai



احباب کی لمبی قطاروں سے نہیں مطلب
جو دل سے ہمارا ہو وہ اک شخص کافی ہے

Friday, 14 November 2014

Khuwab Meri Aankhon Se Kaisa Kaisa Chheena Hai

Best Khuwab Ghazals

خواب میری آنکھوں سے کیسا کیسا چھینا ہے
مفلسی سے بڑھ کر بھی کیا کوئی کمینہ ہے

روشنی کے مدفن میں خوشبوؤں کی میّت ہے
آرزُو کے آنگن میں درد کی حسینہ ہے

نا مُراد راتیں ہیں، بے ہدف اُجالے ہیں
ذلّتوں کے دوزخ میں اور کتنا جینا ہے؟

ریزہ ریزہ خوابوں کی کرچیوں کو چُن چُن کر
زہر زندگی کا یہ قطرہ قطرہ پینا ہے

جانے کون ہوتے ہیں جو مُراد پاتے ہیں
اپنے واسطے تو یہ تیرھواں مہینہ ہے

جانے کس زمانے میں اُجرتیں بھی ملتی تھیں
اب تو محنتوں کا عوض خُون اور پسینہ ہے

زر پرست بستی کی کیا حسیں ثقافت ہے
ہونٹ مسکراتے ہیں پر دلوں میں کِینہ ہے

خوف کے سمندر میں اضطراب کی موجیں
جن پہ بے یقینی کا، ڈولتا سفینہ ہے

روز اک اذیّت کے دشت سے گزرتا ہوں
نارسی کے تِیروں سے چھلنی میرا سِینہ ہے

کرب کے الاؤ میں شعلہ شعلہ جلتا ہوں
وحشتوں کی سنگت میں لمحہ لمحہ جینا ہے

شامِ زندگی سر پہ آ کھڑی ہے اور خود کو
....ریزہ ریزہ چُننا ہے، لخت لخت سِینا ہے